یہ ویب سائٹ آپ کو صرف عمومی معلومات فراہم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔
یہ معلومات آپ کے ماہر پلاسٹک سرجن کے مشورے کا متبادل نہیں ہیں اور نہ ہی اس میں اس طریقۂ کار سے متعلق تمام معلوم حقائق یا سرجری کے ہر ممکنہ ضمنی اثرات شامل ہیں۔
یہ بہت ضروری ہے کہ آپ سرجری کا فیصلہ کرنے سے پہلے اپنے سرجن سے ضرور بات کریں۔
اگر آپ علاج کے فوائد، خطرات، حدود، یا اس طریقۂ کار سے متعلق کسی اور بات کے بارے میں یقین میں نہیں ہیں تو، اپنے سرجن سے وضاحت طلب کریں۔
اس بیماری میں اوپر والا ہونٹ ایک طرف یا دونوں طرف سےکٹا
ہوتا ہے۔ بعض مریضوں میں یہ ناک کے اندر تک کٹا ہوسکتا ہے
یہ حالت دونوں طرف بھی ہوسکتی ہے البتہ کچھ مریضوں میں ہونٹ
صرف درمیان سے بھی کٹا ہوا ہوسکتا ہے۔
اس حالت میں مریض کا تالو درمیان سے دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے۔ جس کے نتیجے میں منہ اور نا ک اندر سے آپس میں مل جاتے ہیں مریض کو کھانے پینے اور بولنے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ اسی طرح ان مریضوں میں کان کی سوزش اور قوت سماعت کا کمزور ہونا یا اکثر چھاتی کی انفیکشن کا سامنا بھی رہتا ہے۔
ہونٹ اور تالو کا پیدائشی طور پر کٹا ہونا بنیادی طور پر ماں کے رحم کے اندر ٹشوز کا صحیح طور پر نہ جڑنا ہے۔ہونٹ وتالو کٹے ہونے کی ٹھوس وجوہات ابھی تک سامنے نہیں آسکیں وہ مائیں جو سگریٹ نوشی کرتی ہیں ذیابیطیس کی مریض ہیں،زیادہ موٹی ہیں یازیادہ عمر میں حاملہ ہوتی ہیں، موٹاپا یا حمل کے دوران ایسی ادویات استعمال کرتی ہیں جو کہ دوران حمل منع ہوتی ہیں ایسی ماؤں میں اس بیماری کے ساتھ بچے کے پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔خاندان کے اندر شادی کرنے سے پیدائشی بیماریوں کے امکانات زیادہ ہیں لیکن اگر میاں بیوی آپس میں رشتہ دار نہ ہوں تو بھی ممکن ہے کہ انکے ہاں ہونٹ و تالو کٹا بچہ پیدا ہو یہ ممکن ہے کہ اصل وجہ جینیاتی ہو(Genetic Problem)۔
اگر صرف ہونٹ کٹا ہو تو یہ کلیفٹ لپ (Cleft Lip) کہلائے گا اوپر والا کٹا ہونٹ صرف ایک طرف سے کٹا ہو تو یکطرفہ ( Unilateral) کہلائے گا اور اگر دونوں طرف سے کٹا ہو تو دو طرفہ (Bilateral) کہلائے گا یہ ہونٹ ایک تہائی، آدھا یا ناک کے اندر تک کٹا ہوسکتا ہے۔ اس کی ایک اور قسم جس کو Microform Cleft کہا جاتا ہے۔ اس میں ہونٹ کے سرخ حصے میں ایک گڑھا ہوتا ہے اور ناک تک ایک لکیر کا نشان ہوتا ہے اس حالت میں بھی اپریشن کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایسے تمام مریضوں کو فوری طور پر پیدائش کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں پلاسٹک سرجن یا Craniofacial سرجن سے رابطہ کرنا چاہئے تاکہ بیماری کی نوعیت کا بروقت تعین کرکے مرحلہ وار علاج شروع کیا جاسکے۔
تصاویر
کٹے ہوئے تالو کے ساتھ پیدا ہونے والے مریضوں کی شرح دنیا میں 700 میں ایک ہے۔منہ کے اندر اوپر والا حصہ تالو کہلاتا ہے مسوڑھوں سے پیچھے کا حصہ درمیان تک سخت ہوتا ہے۔ جسے Hard Palate کہتے ہیں اور اسکے پیچھے کا حصہ نرم ہوتا ہے اسی لیے وہ Soft Palate کہلاتا ہے۔
اگر تالو کا سخت اور نرم حصہ دونوں ہی کٹے ہوں تو اس کو ہم مکمل کٹا ہوا تالوکہیں گے اور اگر صرف نرم حصہ یعنی Soft Palate درمیان سے جدا ہو تو اسے نامکمل کٹا ہوا تالو کہتے ہیں۔ اس وجہ سے پیدا ہونے والے خلاء سے منہ اور ناک کے اندرونی حصے کی تقسیم یا علیحد گی ختم ہوجاتی ہے۔
اس قسم کے کٹے ہوئے تالو میں تالو کے نرم حصے کے اوپر ایک باریک جھلی یا تہہ ہوتی ہے اور نیچے کے تمام عضلات کٹے ہوتے ہیں بظاہر دیکھنے پر یہ تالو ٹھیک نظر آتا ہے مگر تالو کے آخر میں لٹکنے والا حصہ جسے عام طور پر کوّا کہا جاتا ہے۔ وہ یا تو ایک طرف ہوتا ہے یا درمیان سے دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے بعض اوقات ایسے مریضوں کی صحیح تشخیص ایک سال کی عمر کے بعد جاکر ہوتی ہے۔
ایسے مریضوں کو پیدائش سے ہی مشکلات اور مسائل کا سامنا رہتا ہے سب بڑی مشکل ماں کا دودھ نہ پی سکنا ہے کیونکہ ان بچوں میں چوسنے کی صلاحیت نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ نپل سے آسانی سے دودھ پی سکتے ہیں یہ وہ مرحلہ ہے جہاں والدین کو انتہائی صبر اور سخت محنت کی ضرورت پڑھتی ہے۔ کیونکہ جب بھی ان بچوں کو دودھ دینے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ پوری طرح دودھ نہیں پی سکتے اور اس کے کچھ قطرے سانس کی نالی میں چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ان مریضوں کو اکثر نمونیا کی شکایت رہتی ہے۔ کیونکہ ناک کان اور گلے کا اندرونی نظام آپس میں ملا ہوتا ہے۔تالو کٹا ہونے کی وجہ سے ان مریضوں میں کان کے درمیانی حصے کی انفیکشنہونے کا خطرہ رہتاہے جس کی وجہ سے قوت سماعت کمزور ہوسکتی ہے۔ ان بچوں کا اگر بروقت علاج یا آپریشن نہ کرایا جائے تو آگے چل کر آواز کی خرابی کامستقل سامنارہتاہے۔ چونکہ ان کے منہ اور ناک کے درمیان خلاء ہوتا ہے جس کی وجہ سے منہ کی بجائے ناک سے زیادہ ہوا خارج ہوتی ہے اسی لئے الفاظ کی ادائیگی صحیح طریقے سے نہیں کرپاتے دوسرے لوگ ان کی بات کو سمجھ نہیں سکتے یہ مریض دوسرے لوگوں سے صحیح با ت چیت نہیں کرسکتے اور عام طور پر علیحد ہ رہناپسند کرتے ہیں۔
وہ بچے جو خوبصورت ہوتے ہیں وہ زیادہ لوگوں کی توجہ حاصل کرتے ہیں انکو عام طور پر زیادہ زہین تصور کیاجاتاہے۔ انکے معاشرتی رویے بھی زیادہ مثبت ہوتے ہیں عام لوگ ان بچوں کے ساتھ زیادہ بہتر بر تاؤ کرتے ہیں۔ بہ نسبت ان بچوں کے جنکا ہونٹ یا تالوکٹے ہوتے ہیں۔
ہونٹ اور تالو کٹے بچے اپنے ہم عمر اور معاشرے کے عام افراد کے مذاق کا نشانہ بنتے ہیں عمومی طور پر ہمارہ معاشرہ ان بچوں کا مناسب خیال نہیں کرتا۔ والدین کا بہتر رویہ اور نگہداشت ان بچوں میں معاشرے کے ردعمل سے جنم لینے والے منفی خیالات کو کافی حد تک زائل کر سکتے ہیں۔
ان مشکلات سے بچنے اور ان کے حل کیلئے مریض کو پیدائش کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں پلاسٹک سرجن کو دکھانا چاہئے۔ کلیپ ہسپتال پاکستان میں واحد ادارہ ہے جہاں ایک ہی وقت میں پیدائشی ہونٹ و تالوکٹے کے مریضوں کیلئے ماہر ڈاکٹروں (پلاسٹک سرجن، آرتھوڈونٹسٹ اور سپیچ تھراپسٹ) کی ایک پوری ٹیم موجود رہتی ہے۔
چونکہ تالو کٹے بچے دودھ کو صحیح طرح سے اندر کھینچ نہیں سکتے ان بچوں کو خاص بوتل اور خاص نپل سے دودھ پلانا چاھیے نپل میں سوراخ بڑاکیا جاسکتاہے پلاسٹک کی بوتل کو وقفے وقفے سے دبانے سے بھی دودھ بچے کے حلق میں ڈالا جاتاہے۔
جن بچوں کے کٹے ہونٹ اور تالو کا بر وقت صحیح اپریشن ہو جاتاہے وہ عموماََ بہتر زندگی گزارنے کے قابل ہوجاتے ہیں۔
پیدائشی طور پر کٹے ہونٹ اور کٹے تالو کے مریضوں کو اُن کے چہرے کے خدو حال اور آواز میں خرابی کی وجہ سے لوگوں اور اپنے آس پاس کے ساتھیوں کے طنز ومذاق کا سامنا رہتا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ مریض پریشانی اور مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں اکثر بچے جن کا بروقت آپریشن ہوجاتا ہے وہ ایک اچھی اور خوشحال زندگی گزارسکتے ہیں لیکن وہ مریض جن کا بروقت آپریشن نہیں کروایا جاتا وہ اپنے چہرے اور آواز کی خرابی کی وجہ سے معاشرتی زندگی میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ لوگ ان سے ملنے جلنے اور بات کرنے سے کتراتے ہیں یہ مریض سماجی اجتماعات مثلاً شادی بیاہ ،تہوار اور دیگر تقریبات میں حصہ لینے سے کتراتے ہیں۔ جس کی وجہ ان میں احساس کمتری کا ہونا ہے مشاہدے میں یہ دیکھا گیا ہے کہ تین سے پانچ سال کی عمر کے بچے اپنے آپ کو سکول میں عام بچوں کی طرح سمجھتے ہیں مگر آگے جاکر جب انہیں اپنی کمزوری اور کمی کا ادراک ہوتا ہے تو یہ خود بھی دوست بنانے اور لوگوں سے ملنے جلنے سے کتراتے ہیں اور ایک خوف اور مایوسی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایسا ان کی واضح طور پر نظر آنے والی بیماری کی وجہ سے ہوتا ہے یہ اکثرغصے میں، چڑ چڑھے اور مایوس نظر آتے ہیں لیکن کچھ بچے جو زیادہ حساس نہیں ہوتے ان مراحل سے باآسانی گزر جاتے ہیں ۔ زیادہ حساس بچوں کے لیے والدین ، پلاسٹک سر جن اور ماہر نفسیات کی رہنمائی ضروری ہے۔ والدین کی بھرپور توجہ اور محنت ان بچوں کی زندگی بدل سکتی ہے۔
تالو کٹے مریضوں کو اکثر کان کے درمیانی حصے کی انفیکشن کا سامنا رہتا ہے۔ جو کہ قوت سماعت کے زیادہ متاثر ہونے کا باعث بھی بن سکتی ہے کچھ مریضوں میں پیدائشی طور پر ہی سننے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔ چونکہ بولنے کا تعلق بھی سننے سے ہے اس لیے ایسے مریض اگر بروقت علاج نہیں کرواتے تو آگے چل کر صحیح بول نہیں پاتے۔ وہ مریض جو سن تو پاتے ہیں لیکن ان کی آواز خراب ہوتی ہے ان میں آپریشن کے بعد Speech therapy کے ذریعے آواز کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔
مشاہدے میں یہ سامنے آیا ہے کچھgenes کی وجہ سے بھی ایسے Syndromes (ایک ہی وقت میں مختلف پیدائشی طور پر بیماریوں کا ہونا) کیساتھ بچے پیدا ہوتے ہیں جن میں نہ صرف ہونٹ اور تالو کٹا ہوتا ہے بلکہ ساتھ میں دل کی بیماریاں،دماغ کی کمزوری اور دوسرے اعضا بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
سگریٹ – شراب نوشی اور نشہ آور ادویات مثلاً کوکین یا ہیروئن وغیر ہ کا استعمال یا کسی بھی ایسے ماحول میں رہنا جہاں ماں کو حمل کے ابتدائی دنوں کے دوران آکسیجن پوری طرح نہ ملتی ہو یاوٹامن اور آئرن کی کمی میں بھی یہ دیکھا گیا ہے کہ بچے پیدائشی طور پر ہونٹ اور تالو کٹے پیدا ہوسکتے ہیں۔
دوران حمل وٹامن بی اور آئرن کے استعمال سے پیداہونے والے بچوں میں ہونٹ تالو کٹے ہونے کے امکانات کو کم کیا جاسکتا ہے۔
عموماً پیدائش کے بعد ہی معائنہ سے ہونٹ اور تالو کٹے ہونے کی تشخیص کی جاتی ہے۔البتہ الٹراساؤنڈ کی مدد سے دوران حمل بھی اس کی تشخیص ممکن ہے۔
1976ء میں فرانس کے پلاسٹک سرجن Dr. Paul Tessier نے تحقیق کے بعد چہرے کےTessier Clefts ایک تا پندرہ کا ذکر کیاہے۔ اس میں ہونٹ اور تالو کے علاوہ آنکھیں،ناک، کان، گال اور ماتھا بھی پیدائشی طور پر کٹے ہوسکتے ہیں لیکن ایسے مریضوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔
ہونٹ اور تالو کا پیدائشی طور پر کٹا ہونا انتہائی قابل علاج مرض ہے اس کا علاج صرف اور صرف آپریشن ہے مسئلے کی نوعیت پر یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ مریض کو ایک یا ایک سے زیادہ آپریشن کی ضرورت ہے پلاسٹک سرجری کے علاوہ ایسے مریضوں کیلئے دانتوں اور مسوڑے کے ڈاکٹر Speech Therapist,(Orthodontist) ، ناک کان گلے کے ڈاکٹر اور بچوں کے امراض کے ماہر ڈاکٹر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے بچوں کو پیدائش کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں کلیپ ہسپتال میں دکھانا بہت ضروری ہے۔
ہمارسے سینٹر پر ماہر Orthodontist جنہوں نے تائیوان سے ایک سال کی ٹریننگ لی ہےان کی نگرانی میں تالو کے اندرایک پلیٹ لگائی جاتی ہے جسے مصنوعی تالو بھی کہہ سکتے ہیں اس پلیٹ سے مریض کو دودھ پینے میں بھی آسانی ہوجاتی ہے۔ ہونٹ تالو کٹے مریضوں کے ہونٹوں کے درمیان کا فاصلہ کم اور نا ک میں ٹیڑھا پن بھی بہتر کیا جاتا ہے۔ اس عمل کو NAM (Naso Alveolar Molding) کہتے ہیں۔ یہ ایک انتہائی نازک اور پیچیدہ عمل ہےNAM کے بعد جب مریض کا آپریشن کیا جاتا ہے تو نتائج زیادہ بہتر آتے ہیں۔
کٹے ہونٹ کے مریض کا آپریشن تین ماہ کی عمر میں کیا جاسکتا ہے چونکہ یہ آپریشن مکمل بے ہوشی میں کیا جاتا ہے اور اس کیلئے ہمارے ہاں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم موجود ہے (جو کہ اب تک 27000 سے زائد ہونٹ اور تالو کٹے مریضوں کے آپریشن کروا چکے ہیں) اگر بے ہوشی کے ڈاکٹر آپریشن کی اجازت دے دیں تو ہم ان بچوں کا تین ماہ کی عمر میں آپریشن کرسکتے ہیں۔ اسی طرح تالو کے آپریشن کی عمر 9 سے 12 ماہ ہے اس کیلئے بھی بے ہوشی کے ماہر ڈاکٹر مر یض کا معائینہ کرنے کے بعد اپریشن کی اجازت دیتے ہیں۔
مریض صبح ہمارے ہسپتال پہنچتا ہے ہمارے ڈاکٹر معائنے کے بعد اُس کے خون کے ٹیسٹ کر وائیں گے۔ اس کے بعد مریض اپنے کمرے میں چلا جاتا ہے جہاں نرسنگ سٹاف اُس کے آپریشن کی تیاری شروع کرواتے ہیں۔ 3:00 بجے سہ پہر آپریشن شروع کیا جاتا ہے اور اگلے دن مریض کو چھٹی دیکر بخریت گھر بھیج دیا جاتا ہے۔
ہونٹ میں ٹانکوں والی جگہہ پر دن میں تین مرتبہ پولی فیکس لگانی چاہیے ۔ Q-Tipکے زریعے دونوں ناک کے اندر بھی (ایک ماہ تک) پولی فیکس دن میں تین مرتبہ لگائیں
ہونٹ کٹے مریض کے آپریشن کے ایک ہفتہ بعد اُس کی جلد پر لگے ہوئے ٹانکے نکالے جاتے ہیں۔ اور تالو کٹے مریض کا ایک ہفتہ بعد پہلا معائنہ کیا جاتا ہے۔ تالو کٹے مریض تین ہفتے تک پانی، دودھ، جوس، آئس کریم یا دہی لے سکتے ہیں اسکے علاوہ اور کچھ بھی کھانا منع ہے۔
تالو کٹے مریضوں کا آپریشن کے تین ہفتے بعد دوسرا معائنہ کیا جاتا ہے اور اس کو کھانے پینے کی نئی ہدایات دی جاتیں ہیں اور اگر مریض کو Speech Therapy کی ضرورت ہو تو اس کے لیے بھی اس کو راہنمائی فراہم جاتی ہے۔
ہونٹ کٹے مریضوں کے آپریشن کے دو ہفتے بعد انہیں اپریشن کے نشان کی مالش بتائی جاتی ہے جو کہ تین سے چھ ماہ کرنی ہوتی ہے اس سے آپریشن کا نشان مدھم ہوسکتا ہے۔ناک کو اوپر رکھنے کے لیے Nasal Splintsکی ضرورت پڑتی ہے۔جو کہ چھ ماہ سے ۹ماہ تک لگاناچاہیے اس سے ناک کو بھی اوپر اٹھے رہنے میں مدد ملتی ہے
اگر کٹے ہوئے تالو کے مریض کا آپریشن 9سے 12 ماہ کے درمیان کردیا جائے مسلز یا عضلات کو انتہائی مہارت کے ساتھ با ہم جو ڑ دیاجائے تو 75 سے 80 % فیصد مریض خود بخود بہتر بولنا شروع کردیتے ہیں کچھ میریضوں کو سپیچ تھراپی کی ضرورت پڑتی ہے۔
عام طور پر بچہ 9 ماہ کی عمر میں با۔ پا۔ ما۔ لا۔ آہستہ آہستہ بولنا شروع کرتا ہے اور بعد میں دو سے تین لفظ اور پھر وقت کے ساتھ ساتھ جملے بولنا شروع کرتا ہے۔
بروقت تالو کے آپریشن سے مریض کو بولنے میں نسبتاً کم مسائل کا سامنا ہوتاہے لیکن اگر آپریشن دیر سے کیا جائے تو ان کو آپریشن کے بعد Speech Therapy کی لازماََ ضرورت پڑتی ہے عمو ماً 6 ماہ سے 12 مہینے کی محنت کے بعد جاکر آواز بہتر ہوتی ہے صرف 20% ایسے مریض دیکھے گئے ہیں کہ بروقت آپریشن کے بعد بھی اُن Speech Therapy کی ضرورت پڑی۔ ایسے مریض س۔ک۔گ۔ پ۔ ل۔ ب کے الفاظ درست طور پر ادا نہیں کرسکتے۔
کچھ ایسے مریض بھی ہوتے ہیں کہ جن کا تالو کا آپریشن بھی ہوجاتا ہے اور Speech Therapy بھی کرائی جاتی ہے لیکن آواز میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں آتی ایسے مریضوں میں دوسرے آپریشن کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ تالو کی لمبائی کو بڑھایا جاسکے۔ اور ناک کے ذریعے ہوا کے اخراج کو کم کیا جاسکے۔
ایسے ہونٹ اورتالو کٹے مریض جن کا مسوڑا بھی ساتھ کٹا ہوتا ہے اُن میں Alveolar Bone Grafting کی ضرورت ہوتی ہے یہ آپریشن 8 سے 9 سال کی عمر میں کیا جاتا ہے اس میں کولہے سے ہڈی کا کچھ حصہ لے کے مسوڑے میں لگایا جاتا ہے اس سے پہلے اور بعد میں Orthodontist مریض کے دانتوں کا ٹیڑھا پن سیدھا کرتا ہے۔
بجائے اس کے مریض کو کوئی ایک ڈاکٹر یا صرف پلاسٹک سرجن دیکھے ہم نے اس کے لیے اپنے سینٹر پر ایک بے حد تجربہ کار ٹیم بنائی ہے تمام مریضوں کا علاج ہمارے پلاسٹک سرجن کلیفٹ آرتھوڈونٹسٹ اورسپیچ تھراپسٹ کے باھم مشورے کے بعدہی شروع کیا جاتا ہے اور اگر مریضوں میں ہونٹ اور تالو کٹے کے علاوہ بھی پیدائشی بیماریاں ہوں تو اُن کے تفصیلی معائنے کیلئے بچوں کے امراض کے ماہر، بچوں کے دل کے ڈاکٹر، ریڈیالوجسٹ اور بے ہوشی کے ماہر ڈاکٹروں سے مریض کا معائنہ کروایا جاتا ہے۔ تاکہ مختلف مسائل کی ترجیحات کا تعین کیاجاسکے۔
والدین کی حثیت سے آپکا کردار آپکے بچے کے علاج میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے ۔ اپنے بچے کیساتھ اسکے مسائل پر بات کیجئے ۔ اور اسکے مسائل پر توجہ دیجئے ۔ دوسری طرف پلاسٹک سرجری کی ٹیم جو آپکے بچے کا علاج کر رہی ہے ۔ اس سے مسلسل رابطہ رکھیے ۔Follow up کے لیے ضرور آئیے تاکہ آپکے بچے کے علاج میں کوئی تعطل اور کمی نہ آنے پائے ۔ اور یوں آپکا بچہ بہترین علاج سے بہترین نتائج حاصل کر سکے ۔
۱۔ کٹے ہو ئے ہونٹ یا تالو کی وجوہات؟
اس ضمن میں حتمی بات یہی ہے کہ یقینی وجوہات کا ابھی تک تعین نہیں کیا جا سکا کچھ خاندانوں میں پیدائشی نقص زیادہ ہوتا ہے لہٰذا موروثی وجوہات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے ۔
یہاں ایک بات جو اہمیت کی حامل ہے وہ یہ کہ تمام مائیں جو حمل سے ہوں ۔ ان کو چاہیے کہ دوران حمل ادویات کا استعمال ڈاکٹر کے مشورہکے بغیر نہ کریں ۔
۲۔ اگر کسی خاندان میں ایک بچہ کٹے ہوئے ہونٹ یا تالو کیساتھ پیدا ہوتو دیگر بچوں میں اس پیدائشی تکلیف کے کتنے امکانات ہیں ؟
ایسے خاندانوں میں عام لوگوں کی نسبت 4فیصد زیادہ ایسے بچوں کی پیدائش کے امکانات ہیں لیکن اس میں کئی عوامل کار فرماہوتے ہیں ۔ جینیاتی ماہرین(Geneticist) زیادہ تفصیل سے یہ تمام عوامل آپ کے ساتھ Discussکر سکتے ہیں لیکن چونکہ ہمارے ہاں ایسے ماہرین کی کمی ہے لہٰذا پلاسٹک سر جنز حتی المقدور کوشش کرتے ہیں ان جینیاتی مسائل کے بارے میں والدین کی رہنمائی کرسکیں۔
۳۔ Cleft lipکیا ہے؟
Cleft Lip یا کٹا ہوا ہونٹ پیدائشی نقص ہے چہرے کی بناوٹ رحم مادر میں چوتھے ہفتے سے لیکرچھٹے ہفتے کے دوران پایہ تکمیل تک پہچتی ہے ۔ اس دوران مختلف وجوہات کی بناء پر یہ بناؤ ٹ صحیح طور پر مکمل نہیں ہو پاتی اور بچہ کٹے ہوے ہونٹ کیساتھ پیدا ہوتا ہے ۔ یہاں یہ بات اہم ہے کہ زیادہ تر بچوں میں ہونٹ کا بایاں حصہ کٹا ہوتاہے ۔
۴۔ کیا کٹے ہوئے ہونٹ کے ہر بچے میں تا لو بھی کٹا ہو ا ہوتا ہے ؟
نہیں یہ ضروری نہیں کہ ہر کٹے ہوئے ہونٹ کے بچے میں تالو بھی کٹاہوا ہو۔بہت سے بچوں میں صرف ہونٹ یا صرف تالو کٹا ہوا ہتا ہے اور کچھ بچوں میں ہونٹ اور تا لو دونوں کٹے ہوئے ہو سکتے ہیں
۵۔ ایسے بچوں کا کیا علاج ہے ؟
ایسے بچوں میں کٹے ہونٹ یا تالو کو آپریشن کے ذریعے درست کیا جاتاہے۔ زیادہ تر بچوں میں ہونٹ کا آپریشن پہلے اور بعد میں تالو کا آپریشن کیا جاتا ہے۔
۶۔ یہ آپریشن کتنی عمر میں ہو نگے ؟
عموماً ہو نٹ کا آپریشن تین ماہ کی عمر میں کر دیا جاتا ہے اور تا لو کا آپریشن9 مہینے سے12 مہینے کے درمیان کیا جا تا ہے یہاں یہ بات زیادہ اہم ہے کہ آپریشن کے وقت بچے کا صحت مند ہونا بہت ضروری ہے آپریشن سے پہلے بچوں کے ماہر ڈاکٹر اوربے ہوشی کے ماہرین بچے کا معائنہ کرتے ہیں ۔ اور اگر بچہ آپریشن کیلئے فٹ ہے اور تو پھر آپریشن کیا جاتاہے ۔
۷۔ کیا آپریشن کے بعد میرا بچہ بالکل نارمل نظر آئے گا؟
نہیں آپریشن کے بعد ہونٹوں پر سوجن ہوسکتی ہے ۔ اور ٹانکے نکلنے کے بعد آپریشن کا نشان بھی کچھ عر صے تک سر خی ما ئل نظر آسکتا ہے۔ لیکن 6-12مہینو ں کے بعد یہ بہتر ہو جا تا ہے ۔ سر خی اور سختی ختم ہو جاتی ہے۔لکیر کا نشان وقت کے ساتھ مدھم ہو سکتاہے۔
۸۔ نا ک ؟
اکثر و بیشتر کٹے ہوئے ہونٹ کے مریضوں میں نا ک بھی متاثر ہوتی ہے۔ لہٰذا عام طور پر ناک کی سرجری ہونٹ کی سرجری ن کے ساتھ ہی کر دی جاتی ہے لیکن چہرے کے بڑھنے کے ساتھ نا ک کی نشو ونما متا ثر ہو سکتی ہے ۔ لہٰذا 15-16 سا ل کی عمر میں دوبارہ ناک کی سر جری کی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔
۹۔ کٹے ہوئے ہونٹ اور تالو کے مریضوں میں مسوڑھے بھی متاثر ہوتے ہیں ۔
کٹے ہوئے مسوڑھے میں 8-9سا ل میں ہڈی کے چھوٹے سے ٹکڑے رکھنا ضروری ہوتا ہے ۔ ہڈی کے ٹکرے عام طور پر کو لہے کی ہڈ ی سے لیے جاتے ہیں۔
۱۱۔ کیا آپریشن کے بعد ما ں بچے کو اپنا دودھ لاسکتی ہے ؟
ہونٹ اور تالو کٹے آ پریشن کے بعد تک ماں بچے کو اپنا دودھ پلانے سے گریز کرئے ۔ کیو نکہ اسطرح آپریشن شدہ ہونٹ اور تالو پر دباؤ پڑنے کا احتمال ہوتاہے ۔ لہٰذ ا ما ں بریسٹ پمپ کے ذریعے اپنا دودھ لیکرکپ،چمچ یا ڈراپر کے ساتھ بچے کو دے سکتی ہے۔
تالو کے آپریشن میں بچے کو دودھ دینے کے بعد پانی ضرور پلانا چاہیے تاکہ منہ کے اندر لگے ہوئے ٹانکوں سے دودھ کے جمے ہوئے ذرات صاف ہو سکیں ۔
کٹا ہواتالو(Cleft Palate)
۱۔ کٹا ہو ا تالو کیوں ہوتا ہے ؟
رحم مادر میں حمل کے پہلے دو مہینوں میں تالو کی بناوٹ مکمل ہوجاتی ہے اس عمل میں کسی بھی رکاوٹ کی وجہ سے تالو کی بناؤٹ نامکمل رہ جاتی ہے ۔
۲۔ کٹے ہوئے تالو کی مختلف اقسام ۔
کٹے ہوئے تالو کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں ۔ تالو کو بنیادی طور پر دو حصو ںمیں تقسیم کیاجاتا ہے۔ Hard Palateاور Soft Palate کچھ بچوں میں تالو کا اگلا حصہ (Hard Palate)کٹا ہوتاہےاور کچھ بچوں میں تالو کا پچھلا حصہ (Soft Palate)کٹا ہوتا ہے ۔ اور کچھ بچوں میں دونوں بھی کٹے ہو سکتے ہیں۔
۳۔ تالوکی اہمیت کیاہے؟
تا لو ناک اور منہ کو ایک دوسرے سے جدا کرتا ہے۔ اور بولنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔کٹے ہوئے تالومیں آواز زیادہ ناک کے ذریعےباہر نکلتی ہے اور ہمیں آواز سمجھ نہیں آتی۔ آپریشن کے ذریعے غلط جگہ پر لگے ہوئے Muscles کو صحیح کر دیا جاتاہے۔ کچھ بچوں میں آپریشن کے بعد آواز کی صحیح تربیت کیلئےSpeech Therapyکی ضرورت پڑتی ہے ۔ آواز کے ماہرین ان بچوں کو الفاظ صحیح طور پر بولنے کی تربیت دیتے ہیں ۔ہمارے ہاں کوالیفائیڈ Speech Therapistکی نگرانی میں تمام بچوں کی آواز کی جانچ کی جاتی ہے۔
۴۔ کٹے ہوئے تالو کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کو کیسے خوراک دی جائے ؟
ان بچوں کے لیے مخصوص دودھ پلانے والی بوتل ہو تی ہے ۔ اسطرح سے ان بچوں کو دودھ پلانا آسان ہوجا تاہے ۔ان بچوں کو دودھ پلانےکے بعد کمر پر تھپتھپانا جاہیے تاکہ پیٹ سے ہواڈکار کی صورت میں خارج ہوجائے ۔
۵۔ کیا کٹے ہوئے ہونٹ اور تالو کیساتھ پیدا ہونے والوں بچوں کو ماں اپنا دودھ دے سکتی ہے؟
در حقیقت یہ ایک مشکل کام ہے ۔ کیونکہ بچہ اس پیدائشی نقص سے ماں کا دودھ صحیح طریقے سے نہیں پی سکتااور یوں بچے کی مکمل غذائی ضرویات پوری نہیںہوتیں۔ ان ماؤ ں کو بچے کے دودھ پلانے کے مختلف طریقوں سے روشناس کرانے کیلئےہمارہ تر بیت یافتہ عملہ مکمل رہنمائی فراہم کرتاہے ۔
۷۔ کٹے ہوئے تالو آپریشن کس عمر میں ہوگا۔
کٹے ہوئے تالو کا آپریشن عموماً 9سے 12 ماہ کی عمرمیں ہوتا ہے یہی وہ عمر ہوتی ہے جس میں بچہ بولنا سیکھناشروع کرتا ہے۔اگر بچے تالوکٹے کی عمر زیادہ ہوتو بھی اپریشن سے انکی آواز میں بہتر ی ہو سکتی ہے ۔
۸، کیا کٹے ہوئے تالو کا آپریشن خطرناک ہوتاہے ؟
نہیں کٹے ہوئے تالو کا آپریشن اگر ماہر پلاسٹک سرجن کرے تو خطرناک نہیں ہوتا ۔ ہاں یہ آپریشن مریض کو مکمل بے ہوش کرنے کے بعد ہی انجام دیاجاتاہے ۔
۹۔ کٹے ہوئے ہونٹ اور تالو کو آپریشن کے بعد مریض کتنے دنوں تک ہسپتال میں رہے گا ؟
آپریشن کے بعد عموماً بچوں کو دوسرے دن فارغ کردیاجاتاہے ۔ کٹے ہوئے تالو کے آپرشن کے بعد خوراک میں احتیاط کی ہدایت کی جاتی ہے۔
۱۰۔ کٹے ہوئے تالو کے آپریشن کے بعد بچوں کو کھانے میں کیا دیاجائے ؟
کٹے ہوئے تالو کے آپریشن کے بعد پہلے تین ہفتوں تک دودھ ،پانی ، شربت، جوس اور دھی کے علاوہ اور کچھ دیناسخت منع ہے ۔ لیکن ہر دفعہ کھانے کے بعد بچے کو سا دہ پانی دینا چاہیے تاکہ تالو میں لگے ہوئے ٹانکوں میں لگے ہوئے خوراک کے ذرات صاف ہو جا ئیں ۔
Speech(بول چال)
۱۔ کیا کٹے ہوئے تا لو کے آپریشن کے بعد بچے کی آواز نارمل ہو تی ہے؟
آپریشن کے بعد زخموں کے مند مل ہونےتک آواز میں کوئی نمایاں تبد یلی محسوس نہیں ہوتی ۔ لیکنجب زخم مکمل طور پر ٹھیک ہوجاتے ہیں ۔ تو آواز بہتر ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔ کٹے ہوئے تالو کے آپریشن کے بعد بچوں میں آواز نارمل یا نارمل سے قریب تر ہوجاتی ہے اس سلسلے میں پلاسٹک سرجن ، آواز کا ماہر اور والدین اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ کچھ بچوں کو آپریشن کے بعد بھی آواز سے متعلقہ مسا ئل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ لہٰذا ہم ان بچوں پر خصوصی توجہ دیتے ہیں ۔ ان کوSpeech Therapyکی ضرورت ہوتی ہے ۔ جن میں یہ بچے اپنے والدین کے ہمراہ مسلسل مشق اور محنت کرتے ہیں ۔ پھر اپنے گھروں میں سپیچ تھراپسٹ کی ہد ایات پر عمل کرتے ہیں اسطرح بچو ں میں نارمل آواز کا حصول مشکل ضرور ہے لیکن نا ممکن نہیں۔ بولنا بہترین مشق ہے ۔ لہٰذ ا بچے کے سا تھ زیادہ سے زیا دہ باتیں کیجئے تاکہ اسکی آواز بہتر ہوتی جائے ۔
کچھ بچوں میں شاید دوبارہ آپریشن کی ضرورت ہولیکن اسکا فیصلہ پلاسٹک سر جن اور آواز کا ما ہر باہمی مشورے سے کرتے ہیں۔
۲۔ کیا تالو کے آپریشن کے بعد کے لئے چند مخصوص الفاظ صحیح طور پر ادا کرنے میں دقت ہو سکتی ہے؟
زیادہ تر بچوں میں تا لو کے آپریشن کے بعد الفاظ کو صحیح ادا کرنے میں کسی خاص دقت کا سامنا نہیں ہوتا لیکن کچھ بچوں میں چندمخصوص الفاظ کو صحیح طور ادا کرنے میں دقت ہوسکتی ہے ۔ لیکن سپیچ تھراپی سے یہ دقت ختم ہو جاتی ہے ۔
۴۔ آواز کے ما ہر سے کب رابطہ کر نا چاہیے ؟
پلاسٹک سرجن کٹے ہوئے تا لو یا کٹے ہوئے ہونٹ اور تا لو کے مر یضوں کے آپریشن کے بعد آواز کے ما ہر سے رابطہ کا مشورہ دیتے ہیں ۔
لیکن یہ عموماً 3-2 سا ل کے درمیان کیا جاتا ہے۔
۵۔ کیا ہر بچے کی آواز کے ماہر (Speech pathologist)سے ملنے کی ضرورت ہوتی ہے ؟
تمام بچوں کوآواز کے ماہرین سے رابطے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن آواز کی بہتر جانچ کیلئے آپکا پلاسٹک سرجن آپکو آواز کے ماہر سے ملنے کا مشورہ دے سکتا ہے ۔ کچھ بچوں کو Speech Therapyکی لازمی ضرورت ہو سکتی ہے ۔ اور آواز کے ماہرین بچو ں کی بہترین تربیت میں بے حد کار آمد ثابت ہو تے ہیں ۔ کچھ بچو ں میں آواز کی اس تربیت کا بہت اچھا اثر محسوس کیا جا سکتا ہے ۔لیکن کچھ بچوں میں زیا دہ بہتری نہیں آتی ۔ لہذا ان بچو ں میں پلاسٹک سر جن ، آواز کے ماہرین باہمی صلاح مشورے سے کے بعد دوبارہ آپریشن کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں فیصلہ کرتے ہیں۔ اگر دوبارہ آپریشن کر نے کا مشورہ دیاجاتا ہے۔ تو یہ آپریشن 6سال کی عمر کے بعد کیا جا تا ہے۔ جیسے Pharyngoplastyکہا جاتا ہے۔
۶۔ اور کیا مسا ئل ہو سکتے ہیں جنکے بارے میں مجھے معلومات ہو نی چاہیے ؟
کٹے ہوئے ہونٹ اور تالو کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں میں کان کے انفیکشن اور سننے میں دشواری جیسے مسائل ہو سکتے ہیں ۔ بچو ں میں آواز سننے کی جا نچ بہت اہم ہے۔ آواز سننے کے صلاحیت کو جانچنے والے ماہرین Audiologist کہلاتے ہیں ۔
Audiologistکچھ مخصوص ٹسٹ کر نےکےبعد آپکو مفید معلو مات فراہم کرتے ہیں ۔ اگر سننے میں دشواری ہوتو ان بچوں میں زبان سیکھنے اور بولنے میں مشکل پیش آسکتی ہے ۔ لہٰذا ابتد ائی تشخیص سے اس قسم کے مسائل کا تدارک کیا جاسکتا ہے۔
دانتوں سے متعلقہ مسائل
۱۔ کٹے ہوئے ہونٹ اور تالو کے مریضوں میں دانتوں سے متعلق کیا مسائل ہو سکتے ہیں ؟
ہر بچے کے دانتوں کی نگہداشت ضروری ہے لیکن کٹے ہوئے ہونٹ اور تالو کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں میں یہ اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے ۔ بعض بچوں میں کچھ دانت موجود نہیں ہوتے یا دانتوں کی سمت (Direction) غلط ہو سکتی ہے۔
یا مسوڑھےAlveolarArchغلط مقام پر ہوسکتے ہیں ان تمام صورتوں میں پلاسٹک سرجن کے مشورے سےدانتوں کا ماہر دانتوں کے جملہ نقا ئص دور کرنے کیلئے علاج تجویز کرتے ہیں۔جسے طبی اصلاح میں Orthodontic Treatmentکہتے ہیں۔
صحیح اور صحت مند دانت نہ صرف خوبصورت مسکراہٹ کیلئے ضروری ہیں بلکہ بولنے میں چند الفاظ ایسے ہیں جنہیں صحیح طور پر ادا کرنے کےلیے دانتوں کا صحیح جگہ پر ہونا ضروری ہے۔
ہونٹ اور تالو کٹے بچوں کی مدد اور رہنمائی کے لیے یہ پروگرام کلیپ ہسپتال (932-سی فیصل ٹاؤن ، مولانا شوکت علی روڈ لاہور)میں شروع کیاگیاہے۔
کلیپ ہسپتا ل کی ٹیم کے ارکان ہمہ وقت آپکے تمام سوالات کے جوابات دینے کیلئے مستعد رہتے ہیں ۔ اگر آپ فون کے زریعے معلومات کرناچاہتے ہیں تو
042-35174819-20, 0300-4950-000
کٹے ہوئے ہونٹ اور تالو کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کے بارے میں معلومات کہاں سے حاصل کی جا سکتی ہے۔
ایسے بچو ں کے بارے www.clapp.orgسے مکمل معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں ۔